Thursday, February 12, 2015

Helping people opens doors

میرا نام خورشید اختر ہے۔ 1986ءسے پہلے میں انتہائی غریب اور پس ماندہ تھی۔ لوگوں کے کپڑے وغیرہ سی کر گزارہ کرتی تھی۔ ہاں بس ایک بوڑھے بابا جی جن کا کوئی نہ تھا ان کو صبح و شام ایک ایک روٹی پکا دیتی تھی جس نیکی کا صلہ اللہ پاک نے گورنمنٹ کے محکمے میں نوکری دے کر عطا کر دیا۔ کل 9سو روپے تنخواہ تھی۔ ایک شام میں دفتر سے پیدل گھر کی طرف آرہی تھی کہ ایک دکان کے باہر رش دیکھا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ دکاندار جس کی بہت چھوٹی سی پلاسٹک کے پھول بنانے کی دکان ہے ، نے کسی شخص کے 2سو روپے دینے ہیں اور کوئی شخص ان 2سو روپے کی وجہ سے اس کی بہت بے عزتی کررہا ہے ۔میں خاموش کھڑی ہوگئی جب رش ختم ہو گیا اور وہ آدمی بھی اس دکاندار کی بے عزتی کرکے چلا گیا۔ میں خامو شی سے اس دکاندار کے پاس آئی جو منہ جھکائے رو رہا تھا ۔میں نے خاموشی سے اسے 2سو روپے دیئے اور چپکے سے وہاں سے چلی آئی۔ اللہ نے اس نیکی کے بدلے میں مجھے آفس میں بے حد ترقی دی۔ پھر میری بیٹی جوان ہوئی تو میں نے بڑی مشکل سے ایک ہزار روپے جمع کیے کیونکہ میں اس کے جہیز کیلئے بستر کے دو چار سیٹ لانا چاہ رہی تھی۔ ہم دونوں ماں بیٹیاں رکشے میں بیٹھیں تو آدھے راستے میں رکشہ رک گیا اور رکشہ والا بے حد تکلیف میں رکشے کا کچرا نکالنے لگا۔ اس کی پوری ٹانگ پر پلاسٹر چڑھا ہوا تھا پوچھنے پر پتہ چلا کہ 2 ماہ پہلے ایکسیڈنٹ میں اس کا اکلوتا جوان بیٹا ہلاک اور جبکہ وہ خود زخمی ہو گیا تھا۔ اس دن سے گھر میں فاقوں کی شدت سے مجبور ہو کر وہ کسی کا رکشہ مانگ کر روزی کمانے نکلا تھا۔ میں نے اپنی بیٹی کی طرف دیکھا اس نے وہ اکلوتا ایک ہزار روپے کا نوٹ رکشے والے کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ رکشے والے کی دعاﺅں سے میری بیٹی کی شادی بہت دھوم سے ہوئی ۔ ا اللہ پا ک نے مجھ اکیلی کی کمائی میں اتنی برکت دی کہ میں نے اسے جہیز میں ہر چیز دی۔ اس کے بعد کچھ مستحق بچوں کو ماہوار تعلیم کا خرچ دیتی رہی جس نیکی کے صلہ میں میرے پروردگار نے نہ جانے کیسے کیسے بندوبست کرکے مجھے اپنا گھر بنوا دیا۔ پھر میں نے سنا کہ دو لڑائی کرنے والوں میں صلح کروانے کا ثواب اللہ پاک حج کے ثواب کی صورت میں دیتے ہیں۔ قارئین آپ یقین کریں میں نے ایک بہن جس کے باقی بہن بھائیوں نے اسے ہمیشہ کیلئے چھوڑ دیا ۔ایک بہن بھائی سے اس کی صلح صفائی کروائی۔ آج اس بہن سے سب ملتے بھی ہیں۔ بالکل اچانک ہی غیرمتوقع طور پر مجھے اپنے آفس سے3لاکھ روپے کی رقم مل گئی جن میں سے میں اور میرا خاوند حج کر آئے اور حج سے آنے کے 8ماہ بعد ہی رمضان شریف میں اس بہن کے ہمراہ باقی بہن بھائی عمرہ کیلئے گئے ۔میں اپنے پروردگار کے صدقے ہو جاﺅں۔ اس کی رحمتیں اور نعمتیں ہم عاجز لوگوں پر ایسے ایسے جلوہ افروز ہوتی ہیں۔ہم ہی ناشکرے ہیں۔ بندہ اللہ پاک کی نعمتوں سے خود دور ہو جاتا ہے۔ اللہ پاک اپنے بندے کو نہیں بھولتا۔ وہ اسے نوازتا ہی رہتا ہے۔ چاہے وہ اس قابل ہو یا نہ ہو۔ قارئین! خدا کی قسم میں نے یہ واقعات جو میری زندگی میں دو چار ہی ہیں، اس لیے نہیں لکھے کہ آپ کو میں اپنی بڑائی بیان کر رہی ہوں بلکہ صرف اس لیے لکھے ہیں کہ یہ پڑھ کر آپ بھی کوئی نہ کوئی نیک کام کرنے کی سوچیں۔ جس طرح بڑی سی آگ کو جلانے کیلئے چھوٹی چھوٹی لکڑیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طرح ہمیں اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے بچانے کیلئے چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ روزانہ رات کو سونے سے پہلے یہ غور کرکے سوئیں کہ کیا آج کوئی معمولی سا چھوٹا سا بھی نیک کام کیا یا نہیں۔ یاد رہے کہ کسی کا دکھ سن لینا اور اس کو تسلی دے دینا بھی نیکی ہے۔ کسی کی طرف مسکرا کر دیکھ لینا بھی نیکی ہے۔ کسی کی مال سے نہ سہی‘ جان سے جسم سے مدد کرنا بھی نیکی ہے۔ اللہ پاک ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ (آمین)

No comments: