Thursday, February 12, 2015

انقلاب

"باتھ روم کا نل اور نظام : حنیف سمانا

"کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے ......." بیوی نے دوسرے کمرے سے تیسری بار آواز لگائی ..
"آرہا ہوں.....آپ لوگ کھانا شروع کرو" میں نے وہیں سے جواب دیا....
"پاپا! یہ بات آپ نے آدھا گھنٹہ پہلے بھی کہی تھی" بیٹے نے اپنی ماں کے ساتھ آواز ملائی ..

میں facebook پر ایک نظم post کرنے کے لئے net پر اس نظم کے مطابق کوئی تصویر تلاش کر رہا تھا...

" بیٹا پلیز! تھوڑا سا کام رہ گیا ہے....ابھی آ رہا ہوں"...میں نے بلند آواز میں کہا...
"آخر آپ کر کیا رہے ہیں اتنی دیر سے ؟" بیوی نے پھر پریشانی کے انداز میں پوچھا...
"میں ایک انقلابی نظم پوسٹ کر رہا ہوں" میں نے جواب دیا....
"آ جائیں! ایک آدھ گھنٹہ انقلاب لیٹ ہوگیا تو اس قوم کو کوئی فرق نہیں پرے گا.....
60 سال سے ایسے ہی پڑی ہے..." بیوی کی حس_ظرافت پھڑکی...
میں اس وقت سنجیدگی سے کام میں مصروف تھا...مجھے یہ مذاق پسند نہیں آیا...
میں نے وہیں سے بلند آواز میں کہا..
"یار آپ سمجھ نہیں رہیں....میں اس قوم کو جگانا چاہتا ہوں....
میں اس نظام کو بدلنا چاہتا ہوں" میں نے تقریبآ جھنجھلاتے ہوئے کہا...
"نہیں بدلے کا نظام آپ سے....آپ صرف باتھ روم کا نل بدل لو...
ایک مہینہ سے لیک ہورہا ہے..."بیوی نے تو حد کر دی...
"نل....لیک....نظام....؟؟؟؟" میرے منہ سے بے اختیار نکلا...
سارے خیالات منتشر ہو گئے...
میں نے غصے میں کمپیوٹر آف کیا...
اور اپنی قوم کو وہیں بے یارو مددگار چھوڑ کے .....
دوسرے کمرے میں گیا...
اور جا کے کڑھائی گوشت پر حملہ ور ہو گیا...

No comments: