Thursday, February 12, 2015

کیا جوڑے آسمان پر بنتے ہیں ؟



آسمان پر دو جوڑے بنے انکی تفصیل سے آگاہ کر دیتى ہوں امید ہے اسکے بعد اس قسم کے لاحاصل سوالات سے جان چھوٹ جائیگی۔
حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بچپن میں کسی نے اغوا کرکے مکہ لاکر غلام کی حیثیت سے فروخت کے لئے پیش کردیا۔ ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے آپ کو خرید لیا اور کچھ عرصے بعد آنحضرت ﷺکو گفٹ کردیا۔ سفر تجارت کے موقع پر ایک بار حضرت زید رضی اللہ عنہ کے آبائی علاقے کے قریب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت زید کا گزر ہوا تو انکے والد اور دیگر رشتےدار آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یہ ہمارا بچہ ہے آج اسکی حیثیت غلام کی ہے تو چلیئے آپ قیمت لے کر واپس کردیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیمت کی کوئی ضرورت نہیں اگر زید آپکے ساتھ جانا چاہتے ہیں تو بغیر کسی سودے بازی کے چلے جائیں۔ حضرت زید نے آپ ﷺ کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کردیا اور نہیں گئے۔ آپ ﷺ نے انہیں آزاد فرما کر منہ بولا بیٹا بنا لیا۔ آگے چل کر جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرمادیا تو آپ پر ایمان لانے والوں میں حضرت زید رضی اللہ عنہ کا نمبر چوتھا تھا۔

ہجرت کے بعد آپ ﷺ نے حضرت زیدرضی اللہ عنہ کا نکاح اپنی پھوپی زاد حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے کرنا چاہا تو حضرت زید رضی اللہ عنہ کے غلامانہ پس منظر کے سبب حضرت زینب نے انکار کردیا۔ اس پر سورۂ احزاب کی چھتیسویں آیت نازل ہو گئی، جس میں حکم آگیا کہ جب اللہ اور اسکا رسولﷺ کسی کام کا کہہ دیں تو پھر من مانیاں مت کیا کرو۔
یوں گویا اب اس جوڑے کا آسمانی جوڑا ہونا بھی طے ہو گیا۔ شادی ہو گئی لیکن یہ ایک کامیاب شادی ثابت نہ ہوسکی۔ حضرت زینب سے آئے روز جھگڑے ہونے لگے اور حضرت زید آ کر رسول اللہ ﷺ سے شکایت فرماتے اور ساتھ ہی کہتے کہ میں زینب کو طلاق دینا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ منع فرمادیتے۔ بالآخر طلاق ہو گئی۔

نا پسند ہونے کے باوجود حضرت زینب کو حضرت زید کے نکاح میں لاکر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس تصور کو توڑا تھا کہ سابق غلام سے سٹیٹس کے سبب نکاح سے انکار کردیا جائے۔ اللہ چاہتا تو حضرت زینب کے دل میں حضرت زید کی محبت بھی ڈال سکتا تھا لیکن خالص نجی معاملے میں اس نے دخل نہ دیا ۔کیونکہ اب اللہ ایک اور تصور کا بھی قلع قمع کرنا چاہتا تھا۔ وہ تصور یہ تھا کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ یا بیوہ سے عرب شادی نہیں کیا کرتے تھے۔ حضرت زید سے طلاق کے بعد حضرت زینب کو اللہ آنحضرت ﷺ کے نکاح میں لے آئے اور سورۂ احزاب کی آیت نمبر 37 میں صاف صاف اسکا بھی ذکر موجود ہے۔ یوں حضرت زینب، اُم المؤمنین زینب رضی اللہ عنہ بنت جحش بن گئیں۔

ہمارے معاشرے میں ہو یہ رہا ہے کہ اگر رشتہ کامیاب ہو جائے تو کہتے ہیں جوڑا آسمان میں بنا تھا اور ناکام ہو جائے تو کہتے ہیں یہ آسمانی جوڑا نہ تھا۔ ہمارے جوڑوں کی تو کوئی صراحت نہیں لیکن حضرت زید اور حضرت زینب کا جوڑا تو کنفرم آسمان پر ہی بنا تھا۔ کیا وہ چل بھی سکا ؟
جو اللہ اس جوڑے کو بنا سکتا تھا وہ اسے چلانے پر بھی قادر تھا ۔لیکن وہ ہمیں یہ سبق دینا چاہتا تھا کہ محض سٹیٹس کی بنیاد پر رشتے سے انکار نہ کیا کرو اور اگر رشتے چل نہ پائیں تومناسب طرز سے علیحدہ ہو جایا کرو ،لیکن آسمانی اور غیر آسمانی جوڑے جیسی بیکار اور لاحاصل بحثوں میں مت پڑا کرو۔

No comments: