Thursday, February 12, 2015

Dil kay halaat Allah badalta hay

ﺍﯾﮏ ﻧﯿﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﮔﺮ ﮔﺌﯽ ۔ ﺍﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻻﺣﻖ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ
ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺑﻨﻮﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﺴﯽ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺭﺍﮨﮯ ﭘﺮ ﺟﺎﭘﮩﻨﭽﺎ ۔ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻣﺰﺩﻭﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﮐﺎﻡ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ ۔ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻟﮓ ﺗﮭﻠﮓ ﮐﮭﮍﺍ ﺗﮭﺎ ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﯿﻼ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺸﮧ ﺗﮭﺎ ۔
'' ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ''، ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ؟ '' ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ''، ﮨﺎﮞ ''! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ''، ﮔﺎﺭﮮ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮﮔﺎ۔ '' ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ''، ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ! ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﺗﯿﻦ ﺷﺮﻃﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﮞ ، ﭘﮩﻠﯽ ﺷﺮﻁ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﭘﻮﺭﯼ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ، ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺮﻁ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺎﻗﺖ ﺍﻭﺭ ﺻﺤﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮐﺎﻡ ﻟﻮ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺷﺮﻁ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﻭﮐﻮ ﮔﮯ ''۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﺷﺮﻃﯿﮟ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﺁﮔﯿﺎ ، ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ۔ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻡ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﺎﻡ ﻣﺰﺩﻭﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺩﻭﮔﻨﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﺨﻮﺷﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﺟﺮﺕ ﺍﺩﺍ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ۔
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺍﺱ ﭼﻮﺭﺍﮨﮯ ﭘﺮ ﮔﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺰﺩﻭﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮨﻔﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻣﺰﺩﻭﺭﯼ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻋﺎﻡ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮍﺍ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﻟﯿﭩﺎ ﮨﻮﺍﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺳﺨﺖ ﺑﺨﺎﺭ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ''، ﻣﯿﺮﮮ ﺑﮭﺎﺋﯽ !ﺗﻮ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﮨﮯ ، ﺗﻨﮩﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ، ﺍﮔﺮ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﻭ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﭼﻠﻮ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﺩﻭ ''۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﭘﺮ ﻣﺎﻥ ﮔﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﮏ ﺷﺮﻁ ﺭﮐﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺎ ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺷﺮﻁ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﮐﺮ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ۔
ﻭﮦ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻗﯿﺎﻡ ﭘﺬﯾﺮ ﺭﮨﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻧﮧ ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﺒﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻟﮯ ﮐﺮﮐﮭﺎﺋﯽ۔ ﭼﻮﺗﮭﮯ ﺭﻭﺯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺨﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺷﺪﺕ ﺁﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ''، ﻣﯿﺮﮮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ! ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻣﯿﺮﺍﺁﺧﺮﯼ ﻭﻗﺖ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﻟﮩﺬﺍ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻣﺮ ﺟﺎﺅﮞ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﺱ ﻭﺻﯿﺖ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﮧ ''، ﺟﺐ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﻭﺡ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﯽ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺴﯿﭩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﭼﮑﺮ ﻟﮕﻮﺍﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺻﺪﺍ ﺩﯾﻨﺎ ﮐﮧ ﻟﻮﮔﻮ ! ﺩﯾﮑﮫ ﻟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺣﺸﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ''۔ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﯿﺮﺍ ﺭﺏ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﮮ ۔ ﺟﺐ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﻏﺴﻞ ﺩﮮ ﭼﮑﻮ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻧﮩﯽ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ ﭘﮭﺮ ﺑﻐﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﺍﻟﺮﺷﯿﺪ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮕﻮﭨﮭﯽ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﯾﮧ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﻨﺎ ﮐﮧ ''، ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻼﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﺳﮯ ﮈﺭﻭ ! ﮐﮩﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﮧ ﻏﻔﻠﺖ ﺍﻭﺭ ﻧﺸﮯ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺕ ﺁﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﭘﭽﮭﺘﺎﻧﺎ ﭘﮍﮮ ، ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮧ ﮨﻮﮔﺎ ''۔
ﻭﮦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﻭﺻﯿﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﺎﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﻏﻤﺰﺩﮦ ﺭﮨﺎ ۔ ﭘﮭﺮ ( ﻧﮧ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ ) ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺻﯿﺖ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﯽ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﮐﺎ ﻗﺼﺪ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﻧﺪﺍ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ''، ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﯽ ﻣﺖ ﮈﺍﻟﻨﺎ ، ﮐﯿﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﮐﮯ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﺳﻠﻮﮎ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ''؟ ﯾﮧ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺪﻥ ﭘﺮ ﮐﭙﮑﭙﯽ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮﮔﺌﯽ ۔ ﯾﮧ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﮐﻮ ﺑﻮﺳﮧ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﻔﻦ ﻭﺩﻓﻦ ﮐﺎﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﭼﻼﮔﯿﺎ ۔
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮕﻮﭨﮭﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﮐﮯ ﻣﺤﻞ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ﻭﮨﺎﮞ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻏﺬ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻞ ﮐﮯ ﺩﺍﺭﻭﻏﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮭﮍﮎ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺪﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﭩﮭﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﺁﺧﺮِ ﮐﺎﺭ ! ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻃﻠﺐ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ، '' ﮐﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﻇﺎﻟﻢ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﺮﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺭﻗﻌﮯ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻟﯿﺎ ''؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ ''، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺍﻗﺒﺎﻝ ﺑﻠﻨﺪ ﮐﺮﮮ ، ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻇﻠﻢ ﮐﯽ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺍ ﮨﻮﮞ ''۔ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻧﮯ ﺍﺱ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﮦ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮕﻮﭨﮭﯽ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐﮫ ﺩﯼ ۔ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻧﮯ ﺍﻥ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﮐﮩﺎ ''، ﯾﮧ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯼ ﮨﯿﮟ ''؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ ''، ﺍﯾﮏ ﮔﺎﺭﺍ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﻧﮯ ''۔۔۔۔۔۔۔ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﻮ ﺗﯿﻦ ﺑﺎﺭ ﺩﮨﺮﺍﯾﺎ ''، ﮔﺎﺭﺍ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ، ﮔﺎﺭﺍ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ، ﮔﺎﺭﺍ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ۔۔۔۔۔۔۔ '' ﺍﻭﺭ ﺭﻭ ﭘﮍﺍ ۔ ﮐﺎﻓﯽ ﺩﯾﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ''، ﻭﮦ ﮔﺎﺭﺍ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﺏ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ ''؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ''، ﻭﮦ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﻓﻮﺕ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ''۔ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺑﮯ ﮨﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﺼﺮ ﺗﮏ ﺑﮯ ﮨﻮﺵ ﺭﮨﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﻭﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﻭﮨﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺭﮨﺎ ۔ ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﮐﻮﮐﭽﮫ ﺍﻓﺎﻗﮧ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ ، '' ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﮭﮯ ''؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺛﺒﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼ ﺩﯾﺎ ﺗﻮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ''، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺻﯿﺖ ﺑﮭﯽ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ''؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﻭﺻﯿﺖ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﺟﻮ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﺗﮭﺎ ۔
ﺟﺐ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻨﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﺰﯾﺪ ﻏﻤﮕﯿﻦ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮ ﺳﮯ ﻋﻤﺎﻣﮧ ﺍﺗﺎﺭ ﺩﯾﺎ ، ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭼﺎﮎ ﮐﺮ ﮈﺍﻟﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ''، ﺍﮮ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﺼﯿﺤﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ! ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺯﺍﮨﺪ ﻭﭘﺎﺭﺳﺎ ! ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺷﻔﯿﻖ ''۔۔۔۔۔۔! ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺍﻟﻘﺎﺑﺎﺕ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﺋﻴﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺎﺗﺎ ﺭﮨﺎ ۔ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﺍ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺣﯿﺮﺍﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺰﯾﺪ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﻏﻢ ﺯﺩﮦ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﮯ ؟ ﺟﺐ ﺭﺍﺕ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﭘﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮ ﻟﯿﺎ ۔ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﭼﺎﺩﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﮧ ﭼﮭﭙﺎﺋﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﺟﺐ ﮨﻢ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻗﺒﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭ ﮦ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﮩﺎ ''، ﻋﺎﻟﯽ ﺟﺎﮦ ! ﯾﮧ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﮨﮯ ''۔
ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﺳﮯ ﻟﭙﭧ ﮐﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﺎ ۔ ﭘﮭﺮ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﮐﮯ ﺳﺮﮨﺎﻧﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ''، ﯾﮧ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﯿﺮﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﮭﺎ ، ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﯽ ﭨﮭﻨﮉﮎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺟﮕﺮ ﮐﺎ ﭨﮑﮍﺍ ﺗﮭﺎ ، ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﯾﮧ ﺭﻗﺺ ﻭﺳُﺮﻭﺩ ﮐﯽ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﮑﺘﺐ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺑﭽﮯ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺁﯾﺖ ﮐﺮﯾﻤﮧ ﺗﻼﻭﺕ ﮐﯽ ''، ﺍَﻟَﻢْ ﯾَﺎۡﻥِ ﻟِﻠَّﺬِﯾۡﻦَ ﺍٰﻣَﻨُﻮۡۤﺍ ﺍَﻥۡ ﺗَﺨْﺸَﻊَ ﻗُﻠُﻮۡﺑُﮩُﻢْ ﻟِﺬِﮐْﺮِ ﺍﻟﻠﮧِ ۔۔ ﮐﯿﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﻭﻗﺖ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻝ ﺟﮭﮏ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ۔ ( ، ﭖ ،۲۷ ﺍﻟﺤﺪﯾﺪ ۱۶ )
ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺁﯾﺖ ﺳﻨﯽ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺧﻮﻑ ﺳﮯ ﺗﮭﺮ ﺗﮭﺮ ﮐﺎﻧﭙﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﯽ ﺟﮭﮍﯼ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﭘﮑﺎﺭ ﭘﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ''، ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ؟ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ؟ '' ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﺤﻞ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ ۔ ﺍﺱ ﺩﻥ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺒﺮ ﻧﮧ ﻣﻠﯽ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﺩﯼ ''۔ ( ﺣﮑﺎﯾﺎﺕ ﺍﻟﺼﺎﻟﺤﯿﻦ ، ﺹ ۶۷ )

نصرانی بادشاہ كے چند سوالات

ایک دفعہ ایک نصرانی بادشاہ نے چند سوالات لکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجے۔ ان کے جوابات آسمانی کتابوں کی رو سے دینے کا مطالبہ کیا۔ سوالات درج ذیل ہیں:۔
پہلا سوال
ایک ماں کے شکم سے دو بچے ایک دن ایک ہی وقت پید اہوئے۔ پھر دونوں کا انتقال بھی ایک ہی دن ہوا۔ ایک بھائی کی عمر سو سال بڑی اور دوسرے کی سوسال چھوٹی ہوئی۔ یہ کون تھے؟ اور ایسا کس طرح ہوا؟
دوسرا سوال
وہ کونسی زمین ہے کہ جہاں ابتدائے پیدائش سے قیامت تک صرف ایک دفعہ سورج کی کرنیں لگیں‘ نہ پہلے کبھی لگی تھیں نہ آئندہ کبھی لگیں گی۔؟
تیسرا سوال
وہ کونسا قیدی ہے جس کی قید خانہ میں سانس لینے کی اجازت نہیں اور وہ بغیر سانس لیے زندہ رہتا ہے۔؟
چوتھا سوال
وہ کونسی قبر ہے جس کا مردہ بھی زندہ اور قبر بھی زندہ اور قبر اپنے مدفون کو سیر کراتی پھرتی تھی۔ پھر وہ مردہ قبر سے باہر نکل کر کچھ عرصہ زندہ رہ کر وفات پایا۔؟
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا کہ ان سوالات کے جوابات لکھ دیں۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قلم برداشتہ جواب تحریر فرمادیا۔
پہلاجواب
جو دونوں بھائی ایک دن ایک ہی وقت پیدا ہوئے اور دونوں کی وفات بھی ایک ہی دن ہوئی اور ان کی عمر میں سو سال کا فرق۔ یہ بھائی حضرت عزیز علیہ السلام اور حضرت عزیر علیہ السلام تھے۔ یہ دونوں بھائی ایک دن ایک ہی وقت ماں کے بطن سے پیدا ہوئے ان دونوں کی وفات بھی ایک ہی دن ہوئی۔ لیکن بیچ میں حضرت عزیر علیہ السلام کو اپنی قدرت کاملہ دکھانے کیلئے پورے سو سال مارے رکھا۔ سو سال موت کے بعد اللہ تعالیٰ نے زندگی بخشی۔ سورہ آل عمران میں یہ ذکر موجود ہے۔
”وہ گھر گئے پھر کچھ عرصہ مزید زندہ رہ کر رحلت فرمائی۔“
دونوں بھائیوں کی وفات بھی ایک دن ہوئی۔ اس لیے حضرت عزیز علیہ السلام کی عمر اپنے بھائی سے چھوٹی ہوئی اور حضرت عزیز علیہ السلام کی عمر سو سال بڑی ہوئی۔
دوسرا جواب
وہ زمین سمندر کی کھاڑی قلزم کی تہہ ہے کہ جہاں فرعون مردود غرق ہوا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزے سے دریا خشک ہوا تھا۔ حکم الٰہی سے سورج نے بہت جلد سکھایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام مع اپنی قوم بنی اسرائیل پار چلے گئے اور جب فرعون اور اس کا لشکر داخل ہوا تو وہ غرق ہوگیا اس زمین پر سورج ایک دفعہ لگا پھر قیامت تک بھی نہ لگے گا۔
تیسرا جواب
جس قیدی کو قیدخانہ میں سانس لینے کی اجازت نہیں اور وہ بغیر سانس لیے زندہ رہتا ہے وہ بچہ ہے جو اپنی ماں کے شکم میں قید ہے۔ خداوند تعالیٰ نے اس کے سانس لینے کا ذکر نہیں کیا اور نہ وہ سانس لیتا ہے۔
چوتھا جواب
وہ قبر جس کا مردہ بھی زندہ اور قبر بھی زندہ۔ وہ مردہ حضرت یونس علیہ السلام تھے اور ان کی قبر مچھلی تھی جو ان کو پیٹ میں رکھے جگہ جگہ پھرتی تھی یعنی سیر کراتی تھی۔ حضرت یونس علیہ السلام اللہ کے حکم سے مچھلی کے پیٹ سے باہر آکر عرصہ تک حیات رہے پھر وفات پائی۔

کیا جوڑے آسمان پر بنتے ہیں ؟



آسمان پر دو جوڑے بنے انکی تفصیل سے آگاہ کر دیتى ہوں امید ہے اسکے بعد اس قسم کے لاحاصل سوالات سے جان چھوٹ جائیگی۔
حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو بچپن میں کسی نے اغوا کرکے مکہ لاکر غلام کی حیثیت سے فروخت کے لئے پیش کردیا۔ ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے آپ کو خرید لیا اور کچھ عرصے بعد آنحضرت ﷺکو گفٹ کردیا۔ سفر تجارت کے موقع پر ایک بار حضرت زید رضی اللہ عنہ کے آبائی علاقے کے قریب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت زید کا گزر ہوا تو انکے والد اور دیگر رشتےدار آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یہ ہمارا بچہ ہے آج اسکی حیثیت غلام کی ہے تو چلیئے آپ قیمت لے کر واپس کردیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیمت کی کوئی ضرورت نہیں اگر زید آپکے ساتھ جانا چاہتے ہیں تو بغیر کسی سودے بازی کے چلے جائیں۔ حضرت زید نے آپ ﷺ کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کردیا اور نہیں گئے۔ آپ ﷺ نے انہیں آزاد فرما کر منہ بولا بیٹا بنا لیا۔ آگے چل کر جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرمادیا تو آپ پر ایمان لانے والوں میں حضرت زید رضی اللہ عنہ کا نمبر چوتھا تھا۔

ہجرت کے بعد آپ ﷺ نے حضرت زیدرضی اللہ عنہ کا نکاح اپنی پھوپی زاد حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے کرنا چاہا تو حضرت زید رضی اللہ عنہ کے غلامانہ پس منظر کے سبب حضرت زینب نے انکار کردیا۔ اس پر سورۂ احزاب کی چھتیسویں آیت نازل ہو گئی، جس میں حکم آگیا کہ جب اللہ اور اسکا رسولﷺ کسی کام کا کہہ دیں تو پھر من مانیاں مت کیا کرو۔
یوں گویا اب اس جوڑے کا آسمانی جوڑا ہونا بھی طے ہو گیا۔ شادی ہو گئی لیکن یہ ایک کامیاب شادی ثابت نہ ہوسکی۔ حضرت زینب سے آئے روز جھگڑے ہونے لگے اور حضرت زید آ کر رسول اللہ ﷺ سے شکایت فرماتے اور ساتھ ہی کہتے کہ میں زینب کو طلاق دینا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ منع فرمادیتے۔ بالآخر طلاق ہو گئی۔

نا پسند ہونے کے باوجود حضرت زینب کو حضرت زید کے نکاح میں لاکر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس تصور کو توڑا تھا کہ سابق غلام سے سٹیٹس کے سبب نکاح سے انکار کردیا جائے۔ اللہ چاہتا تو حضرت زینب کے دل میں حضرت زید کی محبت بھی ڈال سکتا تھا لیکن خالص نجی معاملے میں اس نے دخل نہ دیا ۔کیونکہ اب اللہ ایک اور تصور کا بھی قلع قمع کرنا چاہتا تھا۔ وہ تصور یہ تھا کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ یا بیوہ سے عرب شادی نہیں کیا کرتے تھے۔ حضرت زید سے طلاق کے بعد حضرت زینب کو اللہ آنحضرت ﷺ کے نکاح میں لے آئے اور سورۂ احزاب کی آیت نمبر 37 میں صاف صاف اسکا بھی ذکر موجود ہے۔ یوں حضرت زینب، اُم المؤمنین زینب رضی اللہ عنہ بنت جحش بن گئیں۔

ہمارے معاشرے میں ہو یہ رہا ہے کہ اگر رشتہ کامیاب ہو جائے تو کہتے ہیں جوڑا آسمان میں بنا تھا اور ناکام ہو جائے تو کہتے ہیں یہ آسمانی جوڑا نہ تھا۔ ہمارے جوڑوں کی تو کوئی صراحت نہیں لیکن حضرت زید اور حضرت زینب کا جوڑا تو کنفرم آسمان پر ہی بنا تھا۔ کیا وہ چل بھی سکا ؟
جو اللہ اس جوڑے کو بنا سکتا تھا وہ اسے چلانے پر بھی قادر تھا ۔لیکن وہ ہمیں یہ سبق دینا چاہتا تھا کہ محض سٹیٹس کی بنیاد پر رشتے سے انکار نہ کیا کرو اور اگر رشتے چل نہ پائیں تومناسب طرز سے علیحدہ ہو جایا کرو ،لیکن آسمانی اور غیر آسمانی جوڑے جیسی بیکار اور لاحاصل بحثوں میں مت پڑا کرو۔

ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ؓ

ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ؓ ﮐﯽ ﺯﻭﺭ ﺁﻭﺭﯼ ﮐﺎ ﺣﺎﻝ ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﮐﯽ
ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮨﻮﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦ ﻣﯿﮟ
ﮐﮩﺮﺍﻡ ﻣﭻ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﯼ ﺫﻟﺖ ﻭﺭﺳﻮﺍﺋﯽ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺋﯽ۔ﺩﻭﺳﺮﯼ
ﻃﺮﻑ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﻻﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮍﯼ ﻋﺰﺕ ﻭﻗﻮﺕ ، ﺷﺮﻑ
ﻭﺍﻋﺰﺍﺯ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺮﺕ ﻭﺷﺎﺩﻣﺎﻧﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺋﯽ۔
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺑﻦ ِ ﺍﺳﺤﺎﻕ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﻨﺪ ﺳﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮؓ ﮐﺎ ﺑﯿﺎﻥ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯿﺎ
ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﻣﮑﮯ ﮐﺎ ﮐﻮﻥ ﺷﺨﺺ
ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧﷺ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﺳﺨﺖ ﺗﺮﯾﻦ ﺩﺷﻤﻦ ﮨﮯ ؟ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ
ﺟﯽ ﮨﯽ ﺟﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﯾﮧ ﺍﺑﻮ ﺟﮩﻞ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ
ﺟﺎﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﭩﮑﮭﭩﺎ ﯾﺎ۔
ﻭﮦ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﯾﺎ۔ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ : ﺍٔﮬﻠًﺎ ﻭﺳﮭﻠًﺎ ( ﺧﻮﺵ ﺁﻣﺪﯾﺪ ، ﺧﻮﺵ ﺁﻣﺪﯾﺪ )
ﮐﯿﺴﮯ ﺁﻧﺎ ﮨﻮﺍ ؟
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺗﻤﮩﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ
ﻣﺤﻤﺪﷺ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﻭﮦ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ
ﺗﺼﺪﯾﻖ ﮐﺮﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ؓ ﮐﺎ ﺑﯿﺎﻥ ﮨﮯ ﮐﮧ ( ﯾﮧ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﯽ ) ﺍﺱ ﻧﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺥ ﭘﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ : ﺍﻟﻠﮧ ﺗﯿﺮﺍ ﺑﺮﺍ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ
ﺗﻮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﺍ ﮐﺮ ﮮ۔ ( ﺍﺑﻦ ﮨﺸﺎﻡ ۱ /۳۴۹ ، ۳۵۰ )
ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻦ ﺟﻮﺯﯼ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮؓ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻧﻘﻞ ﮐﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﮐﻮﺋﯽ
ﺷﺨﺺ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﮍ ﺟﺎﺗﮯ، ﺍﺳﮯ ﺯﺩﻭﮐﻮﺏ
ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﺭﺗﺎ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ
ﻣﺎﻣﻮﮞ ﻋﺎﺻﯽ ﺑﻦ ﮨﺎﺷﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺧﺒﺮ ﺩﯼ۔ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ
ﮔﮭﺲ ﮔﯿﺎ، ﭘﮭﺮ ﻗﺮﯾﺶ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﮮ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ - ﺷﺎﯾﺪ ﺍﺑﻮﺟﮩﻞ
ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮨﮯ ... ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺧﺒﺮ ﺩﯼ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮔﮭﺲ ﮔﯿﺎ۔
( ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺍﻟﺨﻄﺎﺏ ﺹ ۸ )
ﺍﺑﻦ ﮨﺸﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﻦ ِ ﺟﻮﺯﯼ ﮐﺎ ﺑﯿﺎﻥ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ؓ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ
ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﺟﻤﯿﻞ ﺑﻦ ﻣﻌﻤﺮ ﺟﻤﺤﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﺌﮯ۔ ﯾﮧ ﺷﺨﺺ ﮐﺴﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ
ﮈﮬﻮﻝ ﭘﯿﭩﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﮮ ﻗﺮﯾﺶ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﻤﺘﺎﺯ ﺗﮭﺎ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ؓ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻨﺘﮯ ﮨﯽ
ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺑﻠﻨﺪ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﭼﯿﺦ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺧﻄﺎﺏ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﮯ ﺩﯾﻦ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ؓ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﯽ ﺗﮭﮯ۔ ﺑﻮﻟﮯ : ﯾﮧ ﺟﮭﻮﭦ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﮟ
ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺑﮩﺮ ﺣﺎﻝ ﻟﻮﮒ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ؓ ﭘﺮ ﭨﻮﭦ ﭘﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺭ
ﭘﯿﭧ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﮔﺌﯽ۔ ﻟﻮﮒ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ؓ ﮐﻮ ﻣﺎﺭ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ؓ
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﺎﺭ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺳﻮﺭﺝ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺁﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ؓ
ﺗﮭﮏ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ۔ ﻟﻮﮒ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﺭ ﺗﮭﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ؓ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺟﻮ ﺑﻦ
ﭘﮍﮮ ﮐﺮ ﻟﻮ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ !ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﻟﻮ ﮒ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﻮ
ﭘﮭﺮ ﻣﮑﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﺎ ﺗﻮ ﺗﻢ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﮯ ﯾﺎ ﮨﻢ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﮯ۔ ( ۸ﺍﺑﻦ ﮨﺸﺎﻡ ۱ /۳۴۸ ، ۳۴۹،
ﺍﺑﻦ ﺣﺒﺎﻥ (ﻣﺮﺗﺐ ) ۹ /۱۶ ، ﺍﻟﻤﻌﺠﻢ ﺍﻻﻭﺳﻂ ﻟﻠﻄﺒﺮﺍﻧﯽ ۲/ ۱۷۲ (ﺣﺪﯾﺚ ﻧﻤﺒﺮ
۱۳۱۵ ((
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮؓ ﮐﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﻻﻧﮯ ﭘﺮ ﯾﮧ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﺗﻮ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮨﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﻣﺠﺎﮨﺪ ﻧﮯ ﺍﺑﻦِ ﻋﺒﺎﺱ ؓ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﻤﺮ ؓ ﺑﻦ ﺍﻟﺨﻄﺎﺏ
ﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﮐﺲ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﭘﮍﺍ ؟ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ
ﮐﮩﺎ : ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﭘﮩﻠﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﻤﺰﮦؓ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﺋﮯ ، ﭘﮭﺮ ﺣﻀﺮﺕ
ﻋﻤﺮ ؓ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﻻﻧﮯ ﮐﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﺧﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﭘﮭﺮ
ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ -- ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ :
ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ! ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﺣﻖ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﺧﻮﺍﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﯿﮟ، ﺧﻮﺍﮦ
ﻣﺮﯾﮟ ؟ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﺫﺍﺕ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺟﺲ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ
ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﮨﮯ ! ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﺣﻖ ﭘﺮ ﮨﻮ ﺧﻮﺍﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﻮ ﺧﻮﺍﮦ ﻣﻮﺕ ﺳﮯ
ﺩﻭﭼﺎﺭ ﮨﻮ ...
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ؓ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﭘﮭﺮ ﭼﮭﭙﻨﺎ ﮐﯿﺴﺎ ؟ ﺍﺱ
ﺫﺍﺕ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺣﻖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺒﻌﻮﺙ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ، ﮨﻢ ﺿﺮﻭﺭ
ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﮨﻢ ﺩﻭﺻﻔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ
ﮨﻤﺮﺍﮦ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﺋﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺻﻒ ﻣﯿﮟ ﺣﻤﺰﮦ ؓ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭼﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﭼﮑﯽ ﮐﮯ ﺁﭨﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻠﮑﺎ ﮨﻠﮑﺎ ﻏﺒﺎﺭ ﺍﮌ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﯾﮩﺎﮞ
ﺗﮏ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻣﺴﺠﺪ ﺣﺮﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﮔﺌﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ؓ ﮐﺎ ﺑﯿﺎﻥ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﻗﺮﯾﺶ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻤﺰﮦ ؓ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﻮﭦ
ﻟﮕﯽ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺗﮏ ﻧﮧ ﻟﮕﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧﷺ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻟﻘﺐ ﻓﺎﺭﻭﻕ
ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ۔ ( ﻣﺨﺘﺼﺮ ﺍﻟﺴﯿﺮۃ ﻟﻠﺸﯿﺦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺹ ۱۰۳ )
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻦ ﻣﺴﻌﻮﺩؓ ﮐﺎ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺧﺎﻧﮧٔ ﮐﻌﺒﮧ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﮯ
ﭘﺮ ﻗﺎﺩﺭ ﻧﮧ ﺗﮭﮯ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ؓ ﻧﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﯿﺎ۔ 4
ﺣﻀﺮﺕ ﺻﮩﯿﺐ ﺑﻦ ﺳﻨﺎ ﻥ ﺭﻭﻣﯽؓ ﮐﺎ ﺑﯿﺎﻥ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮؓ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ
ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﻼﻡ ﭘﺮ ﺩﮮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﯾﺎ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻼﻧﯿﮧ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ۔ ﮨﻢ
ﺣﻠﻘﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﺑﯿﭩﮭﮯ ، ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﻃﻮﺍﻑ ﮐﯿﺎ ، ﺍﻭﺭ ﺟﺲ
ﻧﮯ ﮨﻢ ﭘﺮ ﺳﺨﺘﯽ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻧﺘﻘﺎﻡ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺾ ﻣﻈﺎﻟﻢ ﮐﺎ
ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ۔ ( ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺍﻟﺨﻄﺎﺏ ﻻﺑﻦ ﺍﻟﺠﻮﺯﯼ ۱۳ )
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻦِ ﻣﺴﻌﻮﺩؓ ﮐﺎ ﺑﯿﺎﻥ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺳﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ؓ ﻧﮯ ﺍﺳﻼﻡ
ﻗﺒﻮﻝ ﮐﯿﺎ ﺗﺐ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻋﺰﺕ ﺭﮨﮯ۔ ( ﺻﺤﯿﺢ
ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﯼ : ﺑﺎﺏ ﺍﺳﻼﻡ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺍﻟﺨﻄﺎﺏ ۱ / ۵۴۵ )

کھوٹے سکے

بغداد میں ایک نانبائی تھا ، وہ بہت اچھے نان کلچے لگاتا تھا اور بڑی دور دور سے دنیا اس کے نان کلچے خریدنے کے لیے آتی تھی۔ کچھ لوگ بعض اوقات معاوضے کے طور پر اسے کھوٹا سکہ دے کر چلے جاتے جیسے یہاں ہمارے ہاں بھی ہوتے ہیں۔ وہ نانبائی کھوٹا سکہ لینے کے بعد اور اسے جانچنے اور آنچنے کے بعد اسے اپنے پیسوں والی صندوقچی میں ڈال لیتا تھا کبھی واپس نہیں کرتا تھا
کسی کو آواز دے کر نہیں کہتا تھا کہ تم نے مجھے کھوٹا سکہ دیا ہے۔ بے ایمان آدمی ہو وغیرہ بلکہ محبّت سے وہ سکہ بھی رکھ لیتا تھا۔
جب اس نانبائی کا آخری وقت آیا تو اس نے پکار کر کہا " اے الله تو اچھی طرح سے جانتا ہے کے میں تیرے بندوں سے کھوٹے سکے لیکر انھیں اعلیٰ درجے کے خوشبو دار گرم گرم صحتمند نان دیتا رہا اور وہ لے کر جاتے رہے۔ آج میں تیرے پاس جھوٹی اور کھوٹی عبادت لے کر آ رہا ہوں ، وہ اس طرح سے نہیں ہے جیسے تو چاہتا ہے میری تجھ سے یہ درخواست ہے کہ جس طرح سے میں نے تیری مخلوق کو معاف کیا تو بھی مجھے معاف کر دے میرے پاس اصل عبادت نہیں ہے۔
(از اشفاق احمد، زاویہ ٢)

انقلاب

"باتھ روم کا نل اور نظام : حنیف سمانا

"کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے ......." بیوی نے دوسرے کمرے سے تیسری بار آواز لگائی ..
"آرہا ہوں.....آپ لوگ کھانا شروع کرو" میں نے وہیں سے جواب دیا....
"پاپا! یہ بات آپ نے آدھا گھنٹہ پہلے بھی کہی تھی" بیٹے نے اپنی ماں کے ساتھ آواز ملائی ..

میں facebook پر ایک نظم post کرنے کے لئے net پر اس نظم کے مطابق کوئی تصویر تلاش کر رہا تھا...

" بیٹا پلیز! تھوڑا سا کام رہ گیا ہے....ابھی آ رہا ہوں"...میں نے بلند آواز میں کہا...
"آخر آپ کر کیا رہے ہیں اتنی دیر سے ؟" بیوی نے پھر پریشانی کے انداز میں پوچھا...
"میں ایک انقلابی نظم پوسٹ کر رہا ہوں" میں نے جواب دیا....
"آ جائیں! ایک آدھ گھنٹہ انقلاب لیٹ ہوگیا تو اس قوم کو کوئی فرق نہیں پرے گا.....
60 سال سے ایسے ہی پڑی ہے..." بیوی کی حس_ظرافت پھڑکی...
میں اس وقت سنجیدگی سے کام میں مصروف تھا...مجھے یہ مذاق پسند نہیں آیا...
میں نے وہیں سے بلند آواز میں کہا..
"یار آپ سمجھ نہیں رہیں....میں اس قوم کو جگانا چاہتا ہوں....
میں اس نظام کو بدلنا چاہتا ہوں" میں نے تقریبآ جھنجھلاتے ہوئے کہا...
"نہیں بدلے کا نظام آپ سے....آپ صرف باتھ روم کا نل بدل لو...
ایک مہینہ سے لیک ہورہا ہے..."بیوی نے تو حد کر دی...
"نل....لیک....نظام....؟؟؟؟" میرے منہ سے بے اختیار نکلا...
سارے خیالات منتشر ہو گئے...
میں نے غصے میں کمپیوٹر آف کیا...
اور اپنی قوم کو وہیں بے یارو مددگار چھوڑ کے .....
دوسرے کمرے میں گیا...
اور جا کے کڑھائی گوشت پر حملہ ور ہو گیا...

Hidayat Allah SWT kay hath may hay

ممتاز سعودی عالم ابو عبد الرحمن محمد العریفی کہتے ہیں :
میں یمن گیا اور شیخ عبد المجید زندانی سے ملا جو جید عالم دین ہیں اور شیخ نے قرآن کریم کے علمی اعجاز پر اور سائنسی تجربات جو قرآن کریم کی تصدیق کرنے پر مجبور ہیں,پر کافی کام کیا ہے
میں نے شیخ سے پوچھا کوئی ایسا واقعہ کہ کسی نے قرآن کریم کی کوئی آیت سنی ہو اور اُس نے اسلام قبول کیا ہو شیخ نے کہا بہت سے واقعات ہیں
مین نے کہا مجھے بھی کوئی ایک آدھ واقعہ بتائیں
شیخ کہنے لگے :
کافی عرصہ پہلے کی بات ہے میں جدہ میں ایک سیمینار میں شریک تھا
یہ بیالوجی اور اس علم میں جو نئے اکتشافات ہوئے اُن کے متعلق تھا
ایک پروفیسر امریکی یا جرمن (شیخ عریفی بھول گئے اُن کا وہم ہے ) نے
یہ تحقیق پیش کی کہ انسانی اعصاب جس کی ذریعے ہمیں "تکلیف" کا احساس ہوتا ہے ان کا تعلق ہماری جلد کے ساتھ ہے پھر اس نے مثالیں دیں مثال کے طور پر کی جب انجیکشن لگتا ہے تو تکلیف کا احساس صرف
جلد کو ہوتا ہے اس کے بعد تکلیف کا احساس نہیں ہوتا
اُس پروفیسر کی باتوں کا لب لباب یہی تھا کا انسانی جسم میں "تکلیف" کا مرکز اور تکلیف کا احساس صرف جلد تک محدود ہے جلد اور چمڑی کے بعد گوشت اور ہڈیوں کو تکلیف کا احساس نہیں ہوتا
شیخ زندانی کہتے ہیں میں کھڑا ہوا اور کہا پروفیسر یہ جو آپ نئی تحقیق لیکر آئے ہیں ہم تو چودہ سو سال پہلے سے آگاہ ہیں
پروفیسر نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے یہ نئی تحقیق ہے جو تجربات پر مبنی ہے اور یہ تو بیس تیس سال پہلے تک کسی کو پتہ نہیں تھا
شیخ زندانی نے کہا کہ ہم تو بہت پہلے سے یہ بات جانتے ہیں اُس نے کہا وہ کیسے
شیخ نے کہا میں نے قرآن کی آیت پرھی :
جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا، انہیں ہم یقیناً آگ میں ڈال دیں گے جب ان کی کھالیں پک جائیں گی ہم ان کے سوا اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ وه عذاب چکھتے رہیں،بے شک اللہ زبردست ہے اور بڑی حکمت والا ہے
(سورة النساء) (56)
یعنی کہ جب اھل جہنم کی جب جلد اور کھال جل جائے گی اللہ مالک نئی جلد اورکھال دیں گے تاکہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں
معلوم ہوا کہ تکلیف کا مرکز جلد ہے
جب اھل جہنم کی جلد اور کھال ہی نہیں ہو گی تو انہیں تکلیف کا احسا س نہیں ہو گا
شیخ کہتے ہیں جب مین نے یہ آیت پڑھی اور ترجمہ کیا وہ پروفیسر سیمینار میں موجود ڈاکڑز اور پروفیسرز سے پوچھنے لگا کیا یہ ترجمہ صحیح ہے ؟
سب نے کہا ترجمہ صحیح ہے
وہ حیران و پریشان ہو کر خاموش ہو گیا
شیخ زندانی کہتے ہیں جب وہ باہر نکلا میں نے دیکھا وہ نرسوں سے پوچھ رہا تھا جو کہ فلپائن اور بریطانیہ سے تعلق رکھتی تھیں کہ مجھے اس آیت کا ترجمہ بتاؤ
انہون نے اپنے علم کے مطابق ترجمہ کیا
وہ پروفیسر تعجب سے کہنے لگا سب یہی ترجمہ کر رہے ہیں
اُس نے کہا مجھے قرآن کا ترجمہ دو
شیخ کہنے لگے میں نے اُسے ایک ترجمے والا قرآن دے دیا
شیخ زندانی کہتے ہیں کہ ٹھیک ایک سال بعد اگلے سیمینار میں مجھے وہی پروفیسر ملا اور کہا:
میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور یہی نہیں بلکہ میرے ہاتھ پر پانچ سو افراد نے اسلام قبول کیا ہے